والدین بچوں پر بے جا تنقید اورڈانٹ ڈپٹ سے اپنے آپ کو روکیں ۔۔۔۔!!کیونکہ

بچوں کو ہر وقت ڈانٹنے سے بچے اس کے عادی ہو جاتے ہیں اور پھر بد تمیز ہو جاتے ہیں ۔بچے کے مزاج کو دیکھ کر ہی والدین یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اس بچے کی تربیت کس طرح کی جائے ۔ لیکن عام طور پر پیار سے بچوں کی تربیت کرنا انتہائی موثر ہے بعض بچے بڑے حساس اور نازک ہوتے ہیں ۔ ایسے بچوں کو بالکل نہ ڈانٹا جائے کیونکہ ایسے بچے ڈانٹ کو برداشت نہیں کر سکتے ۔ اس سے ان کی صحت اور مزاج پر برا اثر پڑتا ہے ۔ بچوں پر ہر وقت تنقید اور ڈانٹتےرہنے سے بچہ ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے ۔اور ایسے بچے نہ صرف پڑھائی میں کمزور بلکہ کھیلوں میں بھی پیچھے رہ جاتے ہیں ۔اور ہر وقت انہیں ناکامی کا خوف رہتا ہے اور پریشانی میں رہنا ان کا معمول بن جاتا ہے ۔ اور احساسِ کمتری اور بے سکونی ان کا مقدر بن جاتی ہے ۔

والدین بچوں کے سامنے لڑائی جھگڑے اور مسائل  ڈسکس کرنے سے اجتناب کریں۔ جو والدین بچوں کو اپنے اشاروں پر چلانے کے لیے مار پیٹ کرتے ہین اور ہر وقت ناراض ہو کر ڈانٹتے رہتے ہیں ،ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ آج کل بچے مار پیٹ سے سدھرنے کی بجائے اور زیادہ باغی ہو جاتے ہیں ۔ بچے کی غلطی پر اسے دوسروں کے سامنے نہ ٹوکیے ،بلکہ تنہائی میں دل نشین انداز میں سمجھایئے۔

Facebook Comments

Comments are closed.