آگئیں گرمیوں کی چھٹیاں ۔۔۔گرمیوں کی چھٹیاں گذارنے میں اپنے بچوں کا دیجیے ساتھ۔۔۔

گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی ہیں تو بچوں کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں ہوتی لیکن مائیں کچھ مضطرب نظر آتی ہیں کہ آخر دو ماہ گھر میں بچے کیسے وقت گزاریں گے ۔ عام روٹین میں توبچے صبح اسکول جاتے ہیں پانچ گھنٹے گذارنے کے بعد واپس آتے ہیں ،کھانا کھاتے ہیں سوجاتے ہیں  ، ہوم وک کرتے ہیں ۔ ایک ترتیب سی لگتی ہے ۔ لیکن اب بچہ گھر میں ہے ماں پریشان ہے ۔ایک کام سمیٹتی ہے تو دوسرا بے ترتیب ہوتا ہے ۔ اس صورتحال میں صانٹ ڈپٹ کرنا اور ہر وقت بچوں کے پیچھے پڑے رہنا کوئی اچھی بات نہیں ۔ تو ایسی صورت میں بچوں کی چھٹیوں کو موثر بنائیں ۔

بے شک اپنی مصروفیات میں سے وقت نکالنا ناممکن ہو جاتا ہے لیکن جہاں دنیا کے بہت سے کام آپ خوش اسلوبی سے کرتے ہیں ۔لوگوں کی پسند ناپسند کا خیال رکھتے ہیں ۔سسرال کی ناخوشگوار بات پر بھی مسکرا دیتے ہیں تو لمحہ بھر کے لئے سوچئے ،کہ اپنی اولاد کے لئے کچھ وقت نہیں نکالا جاسکتا ۔؟کیا ان کی کسی غیر سنجیدہ بات اور لاابالی روئیے کا نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔؟ بالکل ایسا ممکن ہے ۔۔۔یہ دن بچوں کے لئے ہیں ۔زندگی میں کام تو کبھی ختم ہوتے ہی نہیں تو اپنے بچوں کی سنیئے۔ کہ وہ کیا چاہتے ہیں ۔ چھٹیاں گذارنے کے لئے انہوں نے کیا پلان کیا ہے ۔ ہوسکتا ہے وہ کسی ہل اسٹیشن جانے کی خواہش رکھتے ہوں اگر آپ اس پے رضامند ہیں تو ٹھیک ۔لیکن اگر آپ کے لئے کسی صورت ہل اسٹیشن جانا ممکن نہیں تو فوری طور پے اپنا ردِ عمل دکھانے کی کوئی ضرورت نہیں ،بچوں کو اعتماد میں لیجیےاپنے بجٹ کے مطابق انہیں اپنے ہی شہر میں انہیں تفریح گاہوں میں بہت سا وقت گذارنے اور خوب مزہ کرنے کی آفر دیجیے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچوں کو اپنے مسائل سے آگاہ کیجیےیہ سوچ کر نظر انداز نہ کیجیے کہ یہ تو بچہ ہے ،کہاں سمجھ پائے گا ، جب کہ ایسا نہیں ہے !آپ کا بچہ آپ کی نظر میں بچہ ہے ورنہ آج کل سات اٹھ سال کا بچہ بھی مسائل کو سمجھنے اور آپ سے دوستی کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے ۔

اگر آپ کے بچے کی خواہش ہے کہ وہ جہاز کے ذریعے سفر کر کے دوسری جگہ جانا چاہتا ہے تو اس کی بات سکون سے سننے کے بعد اسے سمجھایئے کہ یہ سب آپ کو معاشی پریشانی میں مبتلا کر دے گا ۔ اپنے بچے کو دھوکے میں مت رکھیئےاور نہ ہی اسے جھوٹی تسلیاں دیجیئے۔ ہمیشہ اپنے آپ کو بچے کی بات سننے کے لئے تیار رکھئیے ۔ بچے کو کھل کر اظہار کرنے کا موقع دیں ۔ ہو سکتا ہے وہ اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ کسی تفریحی مقام پر جانے کا ارادہ رکھتا ہو ۔ اگر آپ انہیں آزادی نہیں  دے سکتے تو غیر محسوس طریقے سے اپنے آپ کو ان کے پروگرام کا حصہ بنا لیں ۔

اکثر گھرانوں میں چھٹیوں کا سارا کام آخری دس دن میں مکمل کروا دیا جاتا ہے جو درست طریقہ نہیں کماز کم روزانہ ایک گھنٹہ سکول کے کام کے لئے رکھنا چاہیئے ۔اور ادھ گھنٹہ مذہبی تعلیم کے لئے ہونا ضروری ہے ۔ ٹائم شیڈول بنانے کے بعد اس کی پابندی کا خاص خیال رکھیں ۔ہوم ورک کا ٹائم بچے سے پوچھ کر سیٹ کریں اس طرح اس کا اعتماد بڑھے گا ۔اگر کوئی کام بہت ضروری نہیں ہے تو اسے کسی اور وقت کے لیے چھوڑ دیں اور اگر بہت ضروری کام نمٹانا ہے تو بچوں کو بتائیے ۔ اپنی منصوبہ بندی میں انہیں بھی شامل کریں تاکہ وہ ناراض نہ ہوں ۔

زندگی کا ہر لمحہ آپ کی گرفت میں ہونا چاہئے۔ آپ نے اس اپنے لئے کار آمد اور مفید بنانا ہے ۔ وقت کو اسی لئے سرمایہ کہا جاتا ہے لیکن اسے خرچ کرنے کا کوئی بہترین مصرف بھی آپ ہی کو تلاش کرنا ہے ۔ اور یہ وقت صرف اور صرف آپ کے بچوں کا ہے ۔ زندگی مشکل سہی لیکن وقت سے پہلے ان معصوم ذہنوں پر اس کے اثرات نہ پڑنے پائیں انہیں تتلیاں پکڑنے دیجیے تاکہ کل کوئی معصوم خواہش چبھن نہ بن پائے ۔

Facebook Comments

Comments are closed.