مونگ پھلی ۔۔۔۔

سردیوں کی آمد آمد ہے ۔۔۔اور سردیوں میں مونگ پھلی کھانے کا مزہ آجاتا ہے ۔مونگ پھلی کی خصوصی اہمیت اس میں پائی جانے والی پروٹین ہے جو اعلیٰ درجے کی حیاتیاتی اہمیت رکھتی ہے ۔گوشت اور مونگ پھلی کا موازنہ کیا جائے ۔۔۔تو دونوں کے ایک کلو گرام میں پروٹین کی مقدار کے اعتبار سے مونگ پھلی کا پلڑا بھاری رہتا ہے اسی وزن کے مطابق انڈوں کے مقابلے میں اس میں اڑھائی گنا زیادہ پروٹین ہوتی ہے ۔۔۔
سبزیوں میں سویا بین اور دیگر غذاؤں میں پنیر کے علاوہ کوئی غذا اس حوالے سے مونگ پھلی کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔۔۔اس میں پائی جانے والی پروٹین بہت متوازن ہوتی ہے اگرچہ اس میں کچھ امینو ایسڈ نہیں پائے جاتےاس کے باوجود یہ اعلیٰ معیار رکھتی ہے ۔
مونگ پھلی کی پروٹین میں نہ پائے جانے والے امینو ایسڈ ،دودھ میں خوب ہوتے ہیں ۔اس لیے یہ کمی پوری کرنے کے لیے مونگ پھلی کے پکوان میں دودھ شامل کر لینا مناسب رہتا ہے ۔۔۔
مونگ پھلی کو اچھی طرح ہضم کرنے کے لیے اسے خوب چبا چبا کر کھانا چاہیئے ۔۔۔اگر اس کو اچھی طرح نہ چبایا جائے تو ہضم نہیں ہوتی ۔بھو ننے سے یہ خامی دور ہو جاتی ہے ۔۔۔پکانے سے اس کا نشاستہ مزید قابلِ ہضم ہو جاتا ہے ۔۔۔ چبانے کے عمل سے بچنے کے لیے مونگ پھلی کو پیس لیا جاتا ہے ۔ چونکہ اس میں تیل ہوتا ہے اس لیے پیسنے سے یہ “مونگ پھلی کا مکھن “بن جاتی ہے۔اس مکھن میں تھوڑا سا نمک شامل کر لیتے ہیں یہ پیسٹ گاڑھا کرنا ہو تو اس میں تھوڑا سا مونگ پھلی کا تیل ڈال دیتے ہیں ۔۔۔
مونگ پھلی کے تیل کو بیوٹی ایڈ کی حیثیت سے بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔۔۔
ایک چائے کا چمچ مونگ پھلی کا صاف تیل ،ہم وزن لیموں کے رس میں ملا کر روزانہ رات کو سونے سے پہلے چہرہ پر لگانے سے چہرہ تروتازہ رہتا ہے ۔۔۔ اس کا باقاعدہ بیرونی استعمال جلد کی نشونما کرتا ہے اور نوجوانوں کے چہروں کی پھنسیوں کودور کرتا ہے۔

Facebook Comments

Comments are closed.