ٹھوس غذا کی طرف پہلا قدم۔۔۔۔(ڈاکٹر حمیرا قندیل)

شیر خوار بچوں کی غذا کے لئے ایک راہنما تحریر
بچہ ممتا کی شفقت اور محبت میں پروان چڑھتا ہے ۔جب بچہ 4 سے 6 ماہ کا ہو تا ہے تو اس کی غذائی ضروریات کا تقاضا بھی بدل جاتا ہے ۔ماں کے دودھ کے ساتھ اب اسے ٹھوس غذا کی ضرورت ہوتی ہے ۔کیونکہ بچے کی نشونما کے لئے اب دودھ کے علاوہ ایسی ٹھوس غذائیت بخش خوراک کی ضرورت ہوتی ہے جو زود ہضم بھی ہو اور بچے کی نشونما کے ساتھ ساتھ ذہنی قوت مدافعت کا سبب بھی بنے ۔اس سلسلے میں دیکھا گیا ہے کہ مناسب رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے ایک نئی ماں اور زیادہ بچوں والی عورت میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوتا ۔بلکہ دونوں ہی اس سلسلے میں مزید بہتری کی آرزومند دکھائی دیتی ہیں ۔ابتدائی طور پر بچہ شیر مادر پر پلتا بڑھتا ہے ۔مگر 4 ماہ سے بچے کی غذائی ضرورت میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے ۔اس کے ساتھ ماں کے دودھ کی مقدار میں ایک حد تک کمی ہو جاتی ہے ۔اور یہ وقت ہوتا ہے کہ جب بچے کو ہلکی زود ہضم غذا شروع کرائی جاتی ہے ۔کیونکہ اب ماں کا دودھ بچے کی نشو نما کے لئے نا کافی ہوتا ہے۔اگر اس سلسلےمیں کوئی تردد نہ کیا جائے تو ماں اور بچہ دونوں میں درج ذیل علامات پیدا ہونے لگتی ہیں ۔:
(1) ماں کی صحت پر منفی اثرات پڑتے ہیں ۔اس کی جسمانی طاقت اور قوت مدافعت کمزور پڑنے لگتی ہے ۔
(2) چونکہ بچے کی غذائی ضرورت پہلے سے بڑھ جاتی ہے اس لیے اس کی بھوک نہیں مٹتی اور وہ کمزور اور چڑچڑا ہو جاتا ہے ۔دودھ کی کمی سے بچے کی بھوک بھی کم ہو جاتی ہے
(3) بعض عورتوں میں دوبارہ حاملہ ہونے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے اور وہ بیک وقت دو ذمہ داریوں میں تھکاوٹ اور ذہنی بے آرامی ،جسمانی تبدیلیوں ،اور گھریلو ذمہ داریوں کے پیش نظر اپنی صحت کا بہتر خیال نہیں رکھ پاتیں ۔
(4)بچے میں غذائی کمی پیدا ہونے لگتی ہے اس میں بیماریوں سے بچاؤ اور ان کے مقابلے کی صلاحیت پروان نہیں چڑھتی ۔شدید صورتحال میں بچہ سوکھا ،سان کا شکار ہو جاتا ہے ۔
4 ماہ سے پہلے بچہ کی ٹھوس غذا درج ذیل وجوہات کی بنا پر شروع نہیں کرانی چاہئیے۔
(1) 4 سے 6 ماہ سے پہلے اگر بچہ کی زبان پر کوئی چیز رکھی جائے تو اس میں نگلنے کی صلاحیت نہیں ہوتی اور وہ اس چیز کو باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہے ۔
(2) 4 تا 6 ماہ پہلے صرف ماں کا دودھ ہر شے کا بہترین ہوتا ہے۔ Compound
اور بچے کی تمام ضروریات ماں کے دودھ سے پوری ہو سکتی ہیں ۔حتیٰ کہ سادہ پانی بھی نہیں دیا جاتا۔
(3) 4 تا 6 ماہ پہلے معدہ اپنے سائز اور حجم کے لحاظ سے نرم و نازک اور چھوٹا ہوتا ہے ۔اور اس میں پیدا ہونے والے خامرے محض دودھ کو ہضم کرنے میں معاون ہوتے ہیں ۔
(4) اکثر مائیں اس بات کی شدید خواہش مند ہوتی ہیں کہ ہمارا بچہ باقی بچوں کے مقابلے میں زیادہ صحت مند دکھائی دے ۔لہذا عجلت میں وہ قبل از وقت ٹھوس غذا شروع کر دیتی ہیں ۔جس کی وجہ سے بچے کا پیٹ بھر جاتا ہے۔اور وہ اپنی ماں کا دودھ پورا نہیں لیتا ۔جس کی وجہ سے قدرتی طور پر ماں کا دودھ کم ہوتے ہوتے ختم ہونے کے قریب پہنچ جاتا ہے ۔جو بچے کی نشونما میں رکاوٹ اور نقصان کا باعث بنتا ہے ۔
(5) مختلف قسم کی غذائیں جن کی تیاری میں لاپروائی ،اور بے احتیاطی شامل ہوتی ہےاس وجہ سے بچہ بجائے قدرتی طور پر بڑھنے کے بیماریوں کا زیادہ شکار ہو جاتا ہے
(6)قبل از وقت ٹھوس غذا شروع کر دینے سے گھر کے تمام افراد کی خواہش ہوتی ہے کہ ہم فرداً فرداًبچے کے لیے کوئی چیز گھر لے جائیں اور خود کھلائیں ۔اس کا ایک نقصان تو یہ ہوتا ہے کہ بچہ اب مکمل ماں کی کسٹڈی میں نہیں رہتا۔اور ماں بھی قدرے غافل ہو جاتی ہے ۔اور نتیجہ صرف اور صرف بچہ کے حق میں نقصان کی صورت میں نکلتا ہے ۔آئے روز بچہ نظام انہضام و اخراج کے نئے نئے مسائل سے دو چار رہتا ہے۔
ٹھوس غذا کو شروع کرنے کی مناسب عمر 4 تا 6 ماہ ہے ۔ پیدائش سے لے کر ڈھائی تین ماہ تک ماں کا دودھ بچے کے لیے کسی طرح بھی کم نہیں ہونا چاہئیے اس لیے کہ تمام بچے اپنی جسامت اور وزن کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ بڑے بچے ٹھوس غذا کو سہولت اور آسانی کے ساتھ برداشت کر لیتے ہیں جبکہ چھوٹے بچوں میں یہ صلاحیت ابھی پوری طرح پروان نہیں چڑھی ہوتی ۔اسی لیے ٹھوس غذا کی مناسب عمر 4 سے لے کر 6 ماہ تک ہے اور بعد ازاں بچے کے لیے نیم ٹھوس غذا کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس میں عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ غذا میں مناسب تبدیلی کی جا سکتی ہے ۔
ماؤں کے لیے اپنے بچے کی ضرورت و عادات سے واقفیت کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور سمجھ دار مائیں وہ ہوتی ہیں جو بچے کی عادات سے مکمل طور پر واقفیت رکھتی ہیں ۔ماؤں کے لیےدودھ کے علاوہ اوپر کی غذا شروع کرنے کے لیےچند باتوں سے آگاہ ہونا بہت ضروری ہے ۔اس سے تمام مائیں یہ اچھی طرح جان جائیں گی کہ بچے کی صحت کے لیے کوئی بھی فیصلہ ایک مناسب عمر ،وقت اور حالات کے پیش نظر کیوں کیا جاتا ہے ۔اس سلسلے میں کچھ اہم مشورے اور گزارشات سے آپ کو آگاہ کرنا ضروری ہے ۔ کہ وہ کیا عوامل ہیں جن کے تحت بچے کو ٹھوس اور نیم ٹھوس غذا کی ضرورت ہوتی ہے ۔
(1) 4 ماہ سے 6 ماہ میں بچے کی میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔جس سے نشو نما کے تقاضے محض ماں کا Growth
دودھ پورا نہیں کر سکتا۔
(2) اس عمر میں بچے میں فولاد کا انجذاب تیزی سے ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔اور بچے کو زیادہ سے زیادہ فولاد کی ضرورت ہوتی ہے ۔جو دودھ میں کم ہوتا ہے۔(Iron)
(3) 4 سے 6 ماہ کے دوران بچے کی زبان میں دیگر اشیاء کے ذائقے کو جاننے اور نگلنے کی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے اور زبان پر موجود کی وجہ سے بچہ دیگر غذاؤں کو پسند کرنے لگتا ہے اور Taste Bul
با آسانی ہضم کر لیتا ہے ۔
(4) 4 تا 6 ماہ کی عمر میں بچے کا منہ نیم ٹھوس غذا کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا کر لیتا ہے ۔
(5) 4تا 6 ماہ کی عمر میں بچے کی زبان ٹھوس غذا باہر نہیں دھکیلتی بلکہ اس کو چکھنے اور حلق میں لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔
(6) اس عمر میں بچے کی ہضم کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے اور معدہ نشاستہ کو ہضم کرنے کے قابل ہوتا ہے ۔
(7) 6 ماہ کی عمر سے بچہ دانت نکالنے لگتا ہے ۔
یہ تمام وہ عوامل ہیں جو ماں کو ہوشیار کرتے ہیں اور فطرت ماں اور بچے کی مناسب رہنمائی کرتی ہے۔
4 ماہ سے 12 ماہ تک ماں کے دودھ کے ساتھ ساتھ کون سی غذا شامل کرنا چاہئیے اس کے لیے درج ذیل چارٹ ماؤں کی مناسب رہنمائی کرے گا ۔
عمر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غذا کی تبدیلی
4 ماہ تا 6 ماہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماں کا دودھ دودھ میں کیلا مسل کر دیں +
6 ماہ تا 8 ماہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماں کا دودھ نرم آلو ،چاول اور دال ،کیلا بچے کے غذائی شیڈول میں شامل کر +
دیں ۔
9 ماہ تا 11 ماہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماں کا دودھ ،دیسی روٹی ،آلو چاول ،کیلا ،اور دلیہ ،(کبھی نمکین اور کبھی میٹھا)
12 ماہ اور زائد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماں کا دودھ ،دیسی روٹی،چاول ،ماش ،مونگ کی دال ،گوشت باریک ریشے کرکے دیا جائے۔
ایک سال تک اور بعد میں بچے کو گھر کا پکا ہوا کھانا ہی دیا جائے ۔ اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ماہ بہ ماہ عورت بچے کی غذائی ضروریات کو اپنے دودھ سے پورا نہیں کر سکتی ۔کیونکہ ایک سال سے دو سال کے بچے میں توانائی کے حصول میں ماں کا دودھ بچے کی غذائی ضروریات کا نصف چوتھائی حصّہ پورا کرتا ہے ۔
6 ماہ سے بچے کی خوراک کے اوقات ۔۔۔۔
ماں کا دودھ روزانہ 5 سے 6 مرتبہ دینا چاہئیے۔اور تین سے چار بار Semi solid food
کا پاؤ کا چوتھائی حصہ یا آدھ پاؤ کھلایا جائے ۔بچے کی غذا میں یک دم ایک جیسی روٹین نہ پکڑی جائے بلکہ آہستہ آہستہ اور بتدریج خوراک میں اضافہ کیا جائے۔
7 تا 9 ماہ کے بچے کی خوراک ۔۔۔
ماں کا دودھ دن و رات میں چار مرتبہ اور ٹھوس نیم ٹھوس غذا تین سے چار بار روزانہ آدھ پاؤ سے چوتھائی پاؤ ہر بار کھلائیں ۔
10 سے 12 ماہ کے بچے کی خوراک ۔۔۔
ماں کا دودھ روزانہ 4 مرتبہ تین سے چار بارآدھ پاؤ سے تین پاؤ ہر مرتبہ،Semi Solid Food
16 ماہ تا 24 ماہ کے بچے کی خوراک ۔۔۔۔
ناشتہ،ماں کا دودھ چار مرتبہ روزانہ اور مکھن کے ساتھ دیسی روٹی ،(درمیانی وقفہ) مکھن اور براؤن شکر کے ساتھ چوتھائی روٹی ۔(دوپہر کا کھانا) آٹھ چمچ ابلے ہوئے چاول ،دو چمچ مونگ کی دال ۔
شام کے وقت ماں کا دودھ ،اور نرم کچلا ہوا کیلا ،رات کا کھانا ،ماں کا دودھ اور آدھ پاؤ کھچڑی۔

Facebook Comments

Comments are closed.