پھٹی ایڑیاں۔۔۔۔!!

ایسی خواتین جن کا وزن زیادہ ہو ۔۔۔۔وہ شوگر ،آئیوڈین کی کمی یا تھائی رائیڈ جیسی بیماریوں کا شکار ہوں تو ان کی ایڑیاں سخت ہو کر پھٹنےلگتی ہیں ۔پھٹی ایڑیوں سے نجات پانے کے لئے آپ سردیوں میں روزانہ 25 سے 50 گرام ڈرائی فروٹ کھا سکتی ہیں ۔اگر ایک دن میں اس سے زیادہ مقدار استعمال کریں گی تو فائدہ کی بجائے الٹا نقصان بھی ہو سکتا ہے ۔بعض اوقات سردی کے آغاز سے ہی جلد اپنی قدرتی نمی کھونے لگتی ہے اور جلد میں کھچاؤ، جلد ڈھیلی پڑنا،اور جھریوں کے علاوہ سخت کھردری ،پھٹی ایڑیوں کے مسائل بھی سامنے آتے ہیں ،اس وقت اگر لاپرواہی برتی جائےتو دن بدن جلد کھچنے لگتی ہے جس سے کریکس یعنی دراڑیں پڑ جاتی ہیں ۔دراصل ہمارے جسم کی سب سے سخت جلد ایڑھیوں کی ہوتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ اگر جلد کے اس حصے پر سوئی چبھوئیں تو درد محسوس نہیں ہوتا کیونکہ اس جگہ دورانِ خون نسبتاً سست ہوتا ہے ۔اور جسم کے اس حصے میں پہلے سے ہی نمی کی مقدار کم ہوتی ہے ۔اس کے علاوہ کارپٹ پر ننگے پاؤں چلنے سے بھی پاؤں کی نچلی جلد روکھی اور خشک ہو جاتی ہے ۔اکثر اوقات خواتین موسمِ گرما میں بھی پھٹی ایڑھیوں کی شکائت کرتی ہیں،کیونکہ ان کے ہاتھ اور پاؤں زیادہ دیر تک پانی میں رہتے ہیں جس سے جلد خشک ہو جاتی ہے ۔ایڑھیوں کا پھٹنا وراثتی بھی ہو سکتا ہے اس کے علاوہ کیراٹوڈرما بھی ایسی بیماری ہے جس سے ہاتھوں اور پاؤں کی نچلی جلد کے ساتھ ساتھ ایڑھیاں بھی بری طرح سے متاثر ہوتی ہیں ۔
ڈرائی فروٹ کی زیادہ مقدار استعمال کرنے سے فائدہ کی بجائے الٹا نقصان بھی ہوسکتا ہے جن میں موٹاپا سب سے اہم مسئلہ ہے ۔اس کے علاوہ پھلوں کا جوس پینے کی بجائے “فریش فروٹ” کھائیں خصوصاً پیلے رنگ کے پھل پھٹی ایڑھیوں کے لئے بہت مفید ہیں ،جن میں اورنج ،سنگترہ،چکوترہ، آم، اور خربوزہ شامل ہیں ۔موسم کی مناسبت سے ان پھلوں کا باقاعدہ استعمال فائدہ مند ہے ۔اس کے علاوہ آپ ہاتھوں اور پاؤں پر دن بھر کوئی بھی موئسچرائزنگ کریم اور لوشن لگا کر رکھیں ۔”موئسچرائزنگ “کے لئے ایسی کریمزاور لوشنز استعمال کریں جن میں یوریا، لیکٹک ایسڈ، اور سیلے سلک ایسڈ موجود ہوں اس کے علاوہ ایسی کریمز اور لوشن کا استعمال جن میں یوریا، پٹرولیم جیلی، اور گلیسرین شامل ہوبہت مؤثر ہے اگر ایڑھیاں زیادہ خراب ہوں تو ڈاکٹر سے معائنہ کروانا بھی ضروری ہے ۔
اگر آپ کے پورے جسم پر خشکی ہے تو جسم کی موئسچرائزنگ کے لئے نہانے سے پہلے باتھ ٹب میں آدھا کپ یا 100ملی لیٹر سکمڈملک شامل کر لیں ۔”سکمڈملک” تیار کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ دودھ کو اچھی طرح جوش دلا کر ٹھنڈا کریں اور بالائی اتار لیں پھر دوبارہ دودھ کو جوش دلائیں اور یہ عمل دہرائیں ۔دو مرتبہ بالائی اترنے کے بعد “سکمڈملک” تیار ہو جائے گا۔
فائدے کی باتیں۔۔۔
٭دن کے وقت عام کریم یا لوشن استعمال کریں جبکہ آئل بیسڈ آئنٹمنٹ رات کو لگائیں ۔ (Oil Based Ointment)
کیونکہ رات کے وقت یہ زیادہ تیزی سے اپنا اثر دکھاتی ہے ۔
٭سردیوں میں چہرے کے لئے نان کلوگنگ(Non Clogging)
موئسچرائزر استعمال کریں کیونکہ یہ چہرے پر ایک حفاظتی تہہ بنا دیتا ہے جو جلد کو موسمی سختی سے محفوظ رکھتی ہے ۔

foot tips urdu
٭چہرے، ہاتھوں اور پاؤں پر زیادہ سکرب نہ کریں کیونکہ یہ جلد سے نمی ختم کر دیتا ہے ۔
٭ تیز گرم پانی کی بجائے ہاتھ دھونے ،نہانے ،اور وضو کرنے کے لئے نیم گرم پانی استعمال کریں ۔
٭سردیوں میں ہیٹر استعمال کرنے کی بجائے کمرے میں بھاپ پیدا کرنے والی مشین استعمال کریں تاکہ جلد کی نمی برقرار رہے ۔
٭ہیٹر کے اوپر پانی کا برتن رکھنے سے فضا میں موجود نمی کو کسی حد تک برقرار رکھا جا سکتا ہے ۔اس طرح الرجی کا خدشہ بھی کم ہو جاتا ہے ۔
٭”کولیسٹرول لیول”کو بڑھانے والی غذاؤں کا استعمال کم سے کم کریں تاکہ وزن بڑھنے نہ پائے۔
٭سردیوں میں پانی کا استعمال لازمی کریں اور دن میں کم از کم پانچ گلاس پانی ضرور پئیں کیونکہ پانی کا استعمال آپ کی جلد کو قدرتی نمی دینے کے ساتھ ساتھ جلد کو ڈھیلا نہیں ہونے دیتا ۔
٭انڈور پلانٹس بھی فضا میں نمی برقرار رکھتے ہیں ۔
٭بالائی بہترین “موئسچرائزر” ہے جسے پھٹے ہونٹوں ،ایڑھیوں ،ہاتھوں،اور چہرے پر استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
٭چہرے پر زیادہ دیر تک “ہیوی فاؤنڈیشن ” یا میک اپ لگا کر نہ رکھیں ۔
اگر ایڑھیاں کافی حد تک پھٹی ہیں تو ہفتے میں دو مرتبہ نیم گرم پانی میں دو چمچے سرکہ اور سکمڈ ملک ملائیں اور اس پانی میں 15 منٹ کے لئے پاؤں ڈبو کر رکھیں ۔پھر کسی پتھر یا فٹ فائلر سے (Foot Filer)
ایڑھیوں کو آہستہ آہستہ رگڑنے کے بعد تولیے سے خشک کر لیں ۔اب ایڑھیوں پر پٹرولیم جیلی کا اچھے طریقے سے لیپ کریں ۔ حتیٰ کہ جیلی دراڑوں کے اندر چلی جائے اور اس کے بعد جرابیں پہن لیں کوشش کریں کہ یہ عمل روزانہ رات کو سونے سے پہلے دہرائیں ۔
نیم گرم پانی میں نمک اور بالائی ملا کر آدھا گھنٹہ تک پاؤں ڈبو کر رکھیں اس سے پاؤں کی ایڑھیاں نرم اور صاف ہو جائیں گی۔
٭مہینے میں دو مرتبہ “پیرافن پیڈی کیور” ضروری ہے۔۔۔!!!
گھریلو خواتین اپنی جلد کی حفاظت نہیں کرتیں جس کی وجہ سے ان کی جلد بہت سے مسائل کا شکار رہتی ہے انہیں چاہیے کہ وہ گھریلو استعمال کے لئے ایسے جوتے پہنیں جن میں ان کے پاؤں آرام محسوس کریں ،سخت جوتوں کی وجہ سے بھی پاؤں کی ایڑھیاں خراب ہو جاتی ہیں ۔اس کے علاوہ چہرے اور ہاتھوں کی کلینزنگ کے ساتھ ساتھ پاؤں کی کلینزنگ بھی کیا کریں ۔اگر آپکی ایڑھیاں زیادہ پھٹی ہوئی ہیں جن سے خون رستا ہے اور کریم کے استعمال سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا تو بہتر ہے مہینے میں دو مرتبہ پیرافن پیڈی

iphone-(null)-0

کیور(Paraffin Pedicure)
کروائیں ۔یہ خشک جلد کو اندر سے ختم کر دیتا ہے ۔اور کریک کریم کا باقاعدگی سے استعمال بھی کریں ۔ویسے اچھے(Crack Cream)
سیلونز پر ڈرائی کلینگ مشین بھی ہوتی ہے جو ایڑیوں کی ڈیڈ سکن کوختم کرتی ہے ۔اور اس طرح پھٹی ہوئی ایڑیوں سے نجات مل جاتی ہے ۔
٭یہ بھی آزما کر دیکھیں ۔۔۔۔
٭دو کھانے کے چمچ ویزلین یا پٹرولیم جیلی اور ایک تہائی کھانے کا چمچ گلیسرین ملا کر ہاتھوں اور پاؤں کی خشک جلد پر لگائیں (Vaseline)
سردی کی وجہ سے کچھ بچوں کے چیکس اور ہونٹ پھٹ جاتے ہیں یہ پیسٹ نیم گرم کرکے ان کے “چیکس” پر لگانےسے جلد نرم و ملائم ہو جائے گی۔
٭اگر آپکی ایڑھیاں زیادہ خراب نہیں ہیں تو موم بتی پگھلا کر موم کے قطرے ایڑھیوں پر اس طرح گرائیں کہ دراڑیں بھر جائیں اس کے بعد جرابیں پہن کر 20 منٹ کے بعد موم کے قطرے چھیل کر اتار لیں یہ عمل ہفتے میں دو سے تین مرتبہ دہرائیں ۔
٭کچھ لوگ گھر میں ہاتھ دھونے کے لئے ریڈ سوپ (Red استعمال کرتے ہیں۔آپ ریڈ سوپ کی آدھی ٹکیا کرشSoap)
کریں پھر اس میں 25 ملی لیٹر گلیسرین ملا کر ہاتھوں سے گوندھ کر پیسٹ بنا لیں ۔اور روزانہ رات کو سونے سے پہلے یہ پیسٹ پھٹی ہوئی ایڑھیوں پر لگائیں ۔اس پیسٹ کے روزانہ استعمال سے ایڑھیاں نہ صرف نرم ہونگی بلکہ ان کی رنگت بھی گلابی ہو جائے گی۔

foot after before urdu tips

Facebook Comments

POST A COMMENT.