بچوں کے پیچھے نہ پڑیں

جب والدین یہ کہیں کہ ہم بچے کو دن میں بیسیوں بار پڑھنے کو کہتے ہیں مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوتا تو اس جملے سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ بچے سے زیادہ غلطی والدین کی ہے۔ کہتے ہیں ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کوئی شخص کسی بات سے اتنا چڑ کیوں جاتا ہے کہ لوگ اس بات سے اسے چھیڑیں تو وہ مرنے مارنے پر تل جاتا ہے۔عقل مند وزیر نے جواب دیا کہ حضور کسی وقت ثابت کر دونگا کہ فطری طور پر ایسا ہی ہوتا ہے۔ چند روز بعد وزیر کا نو عمر بیٹا دربار میں حاضر ہوا اور بادشا سلامت سے پوچھنے لگا کہ حضور آپ کے پاس اچار کی بوتل ہے؟بادشاہ نے ہنس کر کہاکہ بیٹا بادشاہ کے دربار میں اچار کی بوتل کا کیا کام؟ اگلے روز پھر آیا اور پوچھا کہ حضور اچار کی بوتل ہے ؟ بادشاہ نے کہا میں نے کل آپکو بتا دیا تھا کہ نہیں ہے ۔ اگلے روز وہ پھر آیا اور تو بادشاہ نے کہا ارے بھئی بتا تو دیا تھا کہ نہیں ہے ۔اگلے دنوں میں بھی یہ ہی سلسلہ جاری رہا حتٰی کہ دسویں روز بادشاہ بھنا اٹھا اور غصے سے بھپر گیا ،تب وزیر با تدبیر نے دست بستہ عرض کی کہ حضور ایسے ہی بار بار ایک ہی بات کہنے سےلوگ چڑ جایاکرتے ہیں۔بچے تو پھر بچے ہوتے ہیں بڑی عمر کے لوگ بھی ایک ہی بات باربار سنتے ہیں تو چڑ جاتے ہیں اس لیے بچوں کو ہر وقت مطالعہ کرنے کو نہیں کہنا چاہیے ۔
بچہ اپنے کسی گہرے دوست سے خوشگوار موڈ میں گپ شپ لگا رہا ہو یا کسی اور مشغلے یا کھیل کود میں مصروف ہو ،ایسے میں انہیں پڑھنے کو کہا جائے تو یہ بات انہیں سخت ناگوار گزرتی ہے۔وہ اسکول کی کتابوں کو اپنا اولین دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔ اس بارے میں بہت احتیاط کرنی چاہیے کہ بچہ مطالعہ سے بددل نہ ہونے پائے ۔اسے اپنے پسندیدہ مشغلے سےمطالعہ کی بجائے کسی اور بہانے سے روکئے اور اسے وقت دیجئے کہ وہ خود اپنے لیے ایک ٹائم ٹیبل بنائے اور اس پر عمل کرے یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض اوقات ان کا دل پڑھنے کو چاہ رہا ہوتا ہے مگر ضد میں آکر یا والدین کو ستانے کے لیے وہ نہیں پڑھتے ۔ہر وقت کی نگرانی بچوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔سخت نگرانی کے برے اثرات بچے کی شخضیت اور زندگی پر پڑتے ہیں اور بڑی عمر میں بھی پریشان کرتے ہیں ۔ایسی نگرانی نہ صرف انہیں آگے بڑھنے میں مدد نہیں دیتی بلکہ ان کا راستہ بھی روکتی ہے ۔

Facebook Comments

Comments are closed.